الفتح الربانی
أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة— سنہ (۹) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ فِيمَا قَاسَاهُ الصَّحَابَةُ فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ مِنْ قِلَّةِ الظَّهْرِ وَضَعْفِهِ وَمَا ظَهَرَ مِنْ مُعْجِزَاتِ النَّبِيِّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ باب: غزوۂ تبوک میں صحابہ کرام کو سواریوں کی قلت وغیرہ سے جو سامنا رہا اس کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہونے والے معجزات کا بیان
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَقُولُ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَجَهَدَ بِالظَّهْرِ جَهْدًا شَدِيدًا فَشَكَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بِظَهْرِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ فَتَحَيَّنَ بِهِمْ مَضِيقًا فَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَقَالَ مُرُّوا بِسْمِ اللَّهِ فَمَرَّ النَّاسُ عَلَيْهِ بِظَهْرِهِمْ فَجَعَلَ يَنْفُخُ بِظَهْرِهِمْ اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكَ إِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ وَعَلَى الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَالَ فَمَا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى جَعَلَتْ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا قَالَ فَضَالَةُ هَذِهِ دَعْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ فَمَا بَالُ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ غَزَوْنَا غَزْوَةَ قُبْرُسَ فِي الْبَحْرِ فَلَمَّا رَأَيْتُ السُّفُنَ فِي الْبَحْرِ وَمَا يَدْخُلُ فِيهَا عَرَفْتُ دَعْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَسیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں غزوۂ تبوک میں شرکت کی، سواریوں کی بڑی قلت تھی، جب صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک تنگ سے راستہ پر لے چلے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس راستے پر چلے،اور فرمایا : تم اللہ کا نام لے کر یہاں سے گزرو۔ لوگ اپنی سواریاں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی سواریوں پر پھونک مارتے اور یہ دعا کرتے جاتے: یا اللہ اس سے اپنی راہ میں کام لے تو ہی قوی اور ضعیف کو طاقت دینے والا ہے۔ اور تو ہی بروبحر یعنی خشکی اور تری اور ہر رطب و یابسیعنی تازہ اور خشک پر قدرت رکھتا ہے۔ سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہماری مدینہ منورہ واپسی تک ہمارے اونٹ ہم سے اپنی مہاریں کھینچتےتھے۔ یہ قوی اور ضعیف کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء کی برکت اور اس کا نتیجہ تھا۔ لیکن میں رطب ویابسیعنی خشک وتر کا مفہوم نہیں سمجھ سکا کہ یہاں اس سے کیا مراد ہو سکتی ہے؟ جب ہم ملکِ شام میں گئے اور ہم نے سمندر میں قبرص کی لڑائی لڑی اور میں نے سمندر میں کشتیوں کو چلتے اور سمندروں میں داخل ہوتے دیکھا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاء کی حقیقت معلوم ہوئی۔