الفتح الربانی
أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة— سنہ (۹) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ اهْتِمَامِ النَّبِيِّ بِهَذِهِ الْغَزْوَةِ وَمَا أَنْفَقَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رضي الله عنه باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ تبوک کے لیے خصوصی اہتمام اور اس کے لیے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عطیہ کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ قَالَ فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ مَا ضَرَّ ابْنَ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ يُرَدِّدُهَا مِرَارًاسیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیش العسرۃیعنی غزوۂ تبوک کی مدد کے لیے صحابہ کرام سے اپیل کی تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار ایک کپڑے میں ڈال کر لائے اور ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جھولی میں ڈھیر کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں میں ان دیناروں کو الٹتے پلٹتے اور فرماتے: آج کے بعد عثمان جو کام بھی کرے، اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بار بار دہرایا۔