حدیث نمبر: 10927
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ اسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ غَزْوَ عَدُوٍّ كَثِيرٍ فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ أَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی غزوہ کا قصد فرماتے تو توریہ کرتے تھے، لیکن جب غزوۂ تبوک کا موقع آیا، چونکہ یہ شدید گرمی کا موسم تھا اور طویل اور صحراء کا سفر تھا، نیز تعداد کے لحاظ سے بہت بڑے دشمن لشکر کا مقابلہ درپیش تھا، اس لیےآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے سامنے ساری صورتحال کھول کر واضح فرما دی تاکہ وہ اپنے دشمن کے مقابلہ کے لیے تیاری کر لیں۔

وضاحت:
فوائد: … توریہ: ارادہ کی ہوئی چیز کا اس طرح اظہار کرنا کہ حقیقت مخفی رہے،مزید دیکھیں حدیث نمبر(۴۹۴۰)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عام معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوات میں توریہ کرتے تھے، لیکن غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر اعلان کیا تاکہ لوگ سفر کی صعوبتوں کا اندازہ کر کے مکمل تیاری کر لیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة التاسعة للهجرة / حدیث: 10927
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2948، ومسلم: 2769 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15874»