حدیث نمبر: 10924
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ الْمَلَامِ وَالْقَتْلِ فَقَالَ أَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَمْ لَا مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَا زَالَ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔( دوسری سند) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو محض ملامت یا قتل سے بچنے کی خاطر یہ کلمہ پڑھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس نے اس وجہ سے کلمہ پڑھا یا کسی دوسری وجہ سے ؟ قیامت کے دن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہُ کا سامنا کرنے کے لیے تمہارے ساتھ کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بات کو اس حد تک دہراتے رہے کہ میں نے پسند کیا کہ کاش میںآج ہی مسلمان ہوا ہوتا ( اور مجھ سے یہ غلطی سرزد نہ ہوئی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملامت سے بچ جاتا)۔

وضاحت:
فوائد: … لَا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہُ کہنے والے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ ہمیں ظاہری حالات اور زبان سے ادا ہونے والے کلمات پر اعتماد کرنے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے، رہا مسئلہ دل کا، کہ اس کے اندر ایمان ہے یا نفاق، تو اس پر مطلع ہونا ہمارے لیے ممکن ہی نہیں، صرف آپ کوبذریعہ وحی پتہ چل سکتاتھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10924
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22145»