حدیث نمبر: 10918
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ فِضَّةً فِي ثَوْبِ بِلَالٍ لِلنَّاسِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ فَقَالَ وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ لَقَدْ خِبْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ أَوْ تَرَاقِيهِمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جعرانہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چاندی ڈال کر لوگوں میں تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! انصاف کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر بڑا افسوس ہے، اگر میں نے انصاف نہیں کیا تو اور کون کرے گا؟ اگر میں انصاف نہیں کیا تو پھر میں یقینا سر ا سر خسارے میں ہوں۔ اس آدمی کی بات سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کا کام تمام کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات سے اللہ کی پناہ، لوگ باتیں بنائیں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ بے شک یہ اور اس کے دوسرے ساتھی (بظاہر) قرآن تو پڑھتے ہیں۔ لیکن وہ ان کے حلق سے یا سینے سے نیچے نہیں اترتا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جیسے تیر شکار میں سے پار گزر جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1063 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14864»