حدیث نمبر: 10915
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ وَلَمْ يُقَدِّرْ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ قَالَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكَأَنَّ الْمُسْلِمِينَ كَرِهُوا ذَلِكَ فَقَالَ اغْدُوا فَغَدَوْا عَلَى الْقِتَالِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اہلِ طائف کا محاصرہ کیا اور کامیابی نہیں ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یوں محسوس ہوا کہ گویا مسلمانوں نے اس فیصلہ کو پسند نہیں کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے صبح لڑائی کرنا۔ جب صبح ہوئی تو مسلمانوں نے لڑائی کی، جس کے نتیجہ میں کافی مسلمان زخمی ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ہم ان شاء اللہ کل واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یہ سن کر مسلمان خوش ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کییہ کیفیت دیکھ کر ہنس دئیے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10915
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4325، ومسلم: 1878 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4588»