حدیث نمبر: 10914
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْنَا مِنَ الْعَبِيدِ فَهُوَ حُرٌّ فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنَ الْعَبِيدِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرَةَ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والے دن فرمایا: جو غلام ہمارے پاس آ جائیں گے، وہ آزاد ہوں گے۔ پھر سیدنا ابو بکرہ سمیت کچھ غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … دیگر احادیث بھی موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کسی کافر کا غلام مسلمان ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا، لیکن ذہن نشین رہے کہ اگر مالک اپنے غلام سے پہلے مسلمان ہو جائے اور پھر غلام مسلمان ہو تو غلام کو مالک کی طرف لوٹا دیا جائے گا، کیونکہ مالک نے قبولیت ِ اسلام کے ذریعے اپنا مال محفوظ کر لیا اور اس کا غلام بھی اس کا مال ہے۔ دیکھیں حدیث نمبر (۵۱۲۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10914
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2229»