الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ بِسَبَبٍ مَنْ لَجَأَ إِلَيْهَا وَتَحَصَّنَ بِهَا مِنْ مُشْرِكِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: اس امر کا بیان کہ غزوۂ طائف ان مشرکین کی وجہ سے پیش آیا جو غزوۂ حنین سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے
حدیث نمبر: 10913
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہلِ طائف کا محاصرہ کیا تو ان میں سے دو غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آملے، ان میں سے ایک کا نام ابو بکرہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت ِ مبارکہ یہی تھی کہ جب دشمن کی طرف سے کوئی غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آ ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو آزاد فرما دیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی وجۂ کنیتیہ ہے کہ وہ قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر ایک چرخی کی مدد سے، جس کے ذریعے رہٹ سے پانی کھینچا جاتا ہے، لٹک کر نیچے آ گئے، جبکہ عربی میں چرخی کو بَکْرَۃ کہتے ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی کنیت ابو بکرہ رکھ دی۔