الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ بِسَبَبٍ مَنْ لَجَأَ إِلَيْهَا وَتَحَصَّنَ بِهَا مِنْ مُشْرِكِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: اس امر کا بیان کہ غزوۂ طائف ان مشرکین کی وجہ سے پیش آیا جو غزوۂ حنین سے جان بچا کر بھاگ گئے تھے
حدیث نمبر: 10912
عَنْ أَبِي طَرِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ وَكَانَ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا رَمَى لَرَأَى مَوْقِعَ نَبْلِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو طریف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں عصرکی نماز ایسے وقت پڑھاتے تھے کہ اگر کوئی آدمی اس نماز سے فارغ ہو کر تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھنا چاہتا تو ( باآسانی ) دیکھ سکتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … درست اور راجح بات یہ ہے کہ یہ عصر کی نماز نہیں ہوتی تھی، بلکہ مغرب کی نماز ہوتی تھی۔