الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ سَرِيَّةِ أَبِي عَامِرِ نِ الْأَشْعَرِى إِلَى أَوْطَاسِ لِإِدْرَاكِهِ مَنْ فَرَّ إِلَيْهَا مِنْ مُشْرِكِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: غزوۂ حنین میں جو مشرکین اوطاس کی طرف فرار ہو گئے تھے، ان کو گرفتار کرنے کے لیے ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کی مہم کا بیان
حدیث نمبر: 10910
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَكْثَرِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقُتِلَ عُبَيْدٌ يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَقَتَلَ أَبُو مُوسَى قَاتِلَ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قَاتِلِ عُبَيْدٍ وَبَيْنَ أَبِي مُوسَى فِي النَّارِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو عامر عبید کو قیامت کے دن اکثر لوگوں پر مرتبہ کے لحاظ سے فوقیت عطا کرنا۔ یہ سیدنا عبید رضی اللہ عنہ او طاس کے دن شہید ہو گئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبید کے قاتل (ابن درید) کو قتل کر دیاتھا،ابو وائل کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل اور میرے والد کو جہنم میں جمع نہیں کرے گا۔