الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ قَوْلِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ وَمَا قَالَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ وَالِدَهُ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ وَجَرْحِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَاهْتِمَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَمْرِهِ باب: غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10907
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اسی کے لیے اس کا سلب ہو گا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس کافر قتل کیے تھے۔