الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ قَوْلِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ وَمَا قَالَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ وَالِدَهُ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ وَجَرْحِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَاهْتِمَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِأَمْرِهِ باب: غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 10906
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔
وضاحت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا: جو آدمی جس کو قتل کرنے میں اکیلا ہو گا، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کے لیے ہو گا۔ اس دن سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیس افراد کا سلب لے کر آئے۔