حدیث نمبر: 10904
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ كَانَتْ هَوَازِنُ نَاسًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ بنو قیس کے ایک آدمی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگ غزوۂ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرار نہیں ہو ئے تھے، دراصل بنو ہوازن ماہر تیر انداز تھے، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ تتر بترہو گئے۔ ہم اموالِ غنیمت جمع کرنے لگے، انہوں نے تیروں کے ذریعے ہمارا سامنا کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ کو تھامے ہوئے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رجز کہتے جاتے تھے۔ أَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ( میں اللہ کا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10904
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2864، 4317، ومسلم: 1776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18667»