الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَكَائِدِ الْحَرْبِ وَسَبَبٍ إِنْهِزَامِ الْمُسْلِمِينَ أَولا وَتُبُوتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَكَابِرِ أَصْحَابِهِ وَآلِ بَيْته باب: لڑائی کی تدبیروں، ابتدائی طور پر مسلمانوں کی شکست کے سبب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اکابر صحابہ اور آلِ بیت کی ثابت قدمی کا بیان
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ كَانَتْ هَوَازِنُ نَاسًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ بنو قیس کے ایک آدمی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگ غزوۂ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرار نہیں ہو ئے تھے، دراصل بنو ہوازن ماہر تیر انداز تھے، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ تتر بترہو گئے۔ ہم اموالِ غنیمت جمع کرنے لگے، انہوں نے تیروں کے ذریعے ہمارا سامنا کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ کو تھامے ہوئے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رجز کہتے جاتے تھے۔ أَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ( میں اللہ کا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)۔