الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَكَائِدِ الْحَرْبِ وَسَبَبٍ إِنْهِزَامِ الْمُسْلِمِينَ أَولا وَتُبُوتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَكَابِرِ أَصْحَابِهِ وَآلِ بَيْته باب: لڑائی کی تدبیروں، ابتدائی طور پر مسلمانوں کی شکست کے سبب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اکابر صحابہ اور آلِ بیت کی ثابت قدمی کا بیان
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ قَالَ فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّتْ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وہ ہوازن کا علم بردار آدمی اپنے اونٹ پر سوار ایسی ہی کاروائیاں کرتا جا رہا تھا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری شخص اس کی طرف گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے پیچھے جا کر اونٹ کی کونچوں پر وار کیا، اونٹ اپنے پیچھے کے بل گر پڑا، انصاری نے پھرتی سے دوڑ کر اس پر وار کر کے نصف پنڈلی سے اس کا پاؤں کاٹ ڈالا، جس سے ہڈی کے ٹوٹنے کی آواز بھی آئی، پس وہ اپنے اونٹ سے نیچے جا گرا اور مسلمانوں نے جرأت وبہادری کا مظاہرہ کیا،اللہ کی قسم! یہ شکست خوردہ مسلمان جب پلٹ کر آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دشمن قیدیوں کو اس حال میں پایا کہ ان کے ہاتھ بندھے ہو ئے تھے۔