حدیث نمبر: 10903
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ قَالَ فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّتْ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وہ ہوازن کا علم بردار آدمی اپنے اونٹ پر سوار ایسی ہی کاروائیاں کرتا جا رہا تھا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری شخص اس کی طرف گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے پیچھے جا کر اونٹ کی کونچوں پر وار کیا، اونٹ اپنے پیچھے کے بل گر پڑا، انصاری نے پھرتی سے دوڑ کر اس پر وار کر کے نصف پنڈلی سے اس کا پاؤں کاٹ ڈالا، جس سے ہڈی کے ٹوٹنے کی آواز بھی آئی، پس وہ اپنے اونٹ سے نیچے جا گرا اور مسلمانوں نے جرأت وبہادری کا مظاہرہ کیا،اللہ کی قسم! یہ شکست خوردہ مسلمان جب پلٹ کر آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دشمن قیدیوں کو اس حال میں پایا کہ ان کے ہاتھ بندھے ہو ئے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10903
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1834، وابويعلي: 1862، وابن حبان: 4774 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15092»