حدیث نمبر: 10899
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ عَبَّاسٌ وَأَبُو سُفْيَانَ مَعَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَطَبَهُمْ وَقَالَ ”الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ“ وَقَالَ ”نَادِ يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔( دوسری سند) کثیر بن عباس سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تنور یعنی میدان گرم ہوا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں آواز دو: اے سورۂ بقرہ والو!

وضاحت:
فوائد: … میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والوں کو بلانے کے لیے سورۂ بقرہ کا ذکر کرنا، اس سے سورۂ بقرہ کی درج ذیل تین آیات میں سے کسی آیت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے: (۱) … {فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَہَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہ مِنِّیْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِیَدِہٖ فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ فَلَمَّا جَاوَزَہ ھُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ قَالُوْا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖقَالَالَّذِیْنَیَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوااللّٰہِ کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ۔} … پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر جدا ہوا تو کہا بے شک اللہ ایک نہر کے ساتھ تمھاری آزمائش کرنے والا ہے، پس جس نے اس میں سے پیا تو وہ مجھ سے نہیں اور جس نے اسے نہ چکھا تو بے شک وہ مجھ سے ہے، مگر جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پانی لے لے۔ تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سوا سب نے اس سے پی لیا۔ تو جب وہ اور اس کے ساتھ وہ لوگ نہر سے پار ہوگئے جو ایمان لائے تھے، تو انھوں نے کہا آج ہمارے پاس جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلے کی کوئی طاقت نہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ یقینا وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انھوں نے کہا کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۴۹)
(۲) … {یٰبَنِیْٓ اِسْرَاء ِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَہْدِیْٓ اُوْفِ بِعَہْدِکُمْ وَاِیَّایَ فَارْھَبُوْنِ۔} … اے بنی اسرائیل!میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور تم میرا عہد پورا کرو، میں تمھارا عہد پورا کروں گا اور صرف مجھی سے پس ڈرو۔ (سورۂ بقرہ: ۴۰)
(۳) … {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاء َ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَء ُوْفٌ بِالْعِبَادِ۔} … اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بے حد نرمی کرنے والا ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۷)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10899
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1776»