حدیث نمبر: 10898
عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَزِمْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِيُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ الْعَبَّاسُ وَأَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكُفُّهَا وَهُوَ لَا يَأْلُو مَا أَسْرَعَ نَحْوَ الْمُشْرِكِينَ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِغَرْزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {يَا عَبَّاسُ نَادِ يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ} قَالَ وَكُنْتُ رَجُلًا صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِي عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلَادِهَا فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ وَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ فَاقْتَتَلُوا هُمْ وَالْكُفَّارُ فَنَادَتِ الْأَنْصَارُ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ قَصَّرَتِ الدَّاعُونَ عَلَى بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَنَادَوْا يَا بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {هَذَا حِينَ حَمِيَ الْوَطِيسُ} قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ {انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ} قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلًا وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ حنین میں شریک تھا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ صرف میں اور سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رہ گئے تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیں ہوئے، آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، یہ خچر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فروہ بن نعامہ جزامی نے بطور ہدیہ بھیجا تھا، جب مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ دے کر بھاگ اُٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر کو ایڑ لگا کر کفار کی طرف بڑھنے لگنے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی باگ کو پکڑے ہوئے تھا، اسے ذرا روکنے کی کوشش کرتا لیکن آپ کو شش کرکے تیزی سے مشرکین کی طرف بڑھتے رہے۔ ابو سفیان بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکاب کو تھامے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عباس! اصحاب سمرہ کو آواز دو۔ ( یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کیکریا ببول کے درخت کے نیچے بیعت کی تھی) ، وہ بلند آواز والے آدمی تھے، انھوں نے کہا: اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟ اللہ کی قسم ان لوگوں نے میری آواز سنی تو فوراً اس طرح واپس آئے، جیسے گائے اپنے بچے کی طرف دوڑ کر آتی ہے اور انہوں نے آتے ہی کہا: جی ہم حاضر ہیں، جی ہم حاضر ہیں، باقی مسلمان بھی لوٹ آئے، ان کے اور کفار کے درمیان لڑائی ہوئی۔ انصار نے ایک دوسرے کو بلایا: اے انصار کی جماعت! پھر بلانے والوں نے اپنے جدااعلیٰ کے نام سے پکارنے پر اکتفا کیا اور کہا: اے حارث بن خزرج کی اولاد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خچر کے اوپر سے نظر لمبی کر کے میدانِ قتال کی طرف دیکھا اور فرمایا: اب میدان گرم ہوا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند کنکریاں لے کر ان کو کفار کے چہروں پر پھینکا اور فرمایا: رب کعبہ کی قسم! رب کعبہ کی قسم! وہ شکست خوردہ ہو کر فرار ہو گئے۔ میں نے دیکھا تو مجھے یوں لگا جیسے لڑائی اسی طرح جا ری ہے، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کنکریاں پھینکنے کی دیر تھی کہ میں نے ان کی دھار کو کند دیکھا،یعنی ان کے حوصلے پست ہو گئے اور ان کی حالت کمزور ہو گئی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست سے دو چار کر دیا، گویایہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پیچھے اپنے خچر کو ایڑ لگا رہے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1775 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1775»