الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ أَهْلِ مَكَّةَ رِجَالًا وَنِسَاءً وَاسْتِحَضَارِ أَوْلَادِهِمْ لِيَمْسَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ باب: مکہ مکرمہ کے مردوں اور عورتوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرنے اور ان کے اپنی اولاد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لانے کا بیان تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر اپنا ہاتھ مبارک پھیر دیں
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا مَعَ أُمِّي رَائِطَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ الْخُزَاعِيَّةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النِّسْوَةَ وَيَقُولُ {أُبَايِعُكُنَّ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقْنَ وَلَا تَزْنِينَ وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: 12] قَالَتْ فَأَطْرَقْنَ فَقَالَ لَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ «قُلْنَ نَعَمْ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ» فَكُنَّ يَقُلْنَ وَأَقُولُ مَعَهُنَّ وَأُمِّي تُلَقِّنُنِي قُولِي أَيْ بُنَيَّةُ فِيمَا اسْتَطَعْتُسیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی والدہ سیدہ رائطہ بنت سفیان خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین سے بیعت لے رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرما رہے تھے: میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، زنا نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، بہتان تراشی نہیں کرو گی اور نیکی میں نافرمانی نہیں کرو گی۔ عورتوں نے یہ باتیں سن کر سر جھکا لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کہہ دو کہ ٹھیک ہے، تمہارییہ بیعت صرف اس حد تک ہے کہ جس کی تم کو استطاعت ہو۔ پس انھوں نے جی ہاں کہنا شروع کر دیا اور میں بھی ان کے ساتھ کہہ رہی تھی، پھر میری والدہ نے مجھے تلقین کی اور کہا: میری پیاری بیٹی! یہ بھی کہو کہ جتنی میری طاقت ہے۔
جب صحابیات آیت میںمذکورہ امور پر علی الاطلاق پابند رہنے کا دعوی کرتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو لقمہ دیتے کہ طاقت اور استطاعت کے مطابق اقرار کرنا چاہیے، تاکہ اگر کسی مجبوری اور شرعی عذر کی وجہ سے کسی شق کو توڑنا پڑ جائے تو بیعت کا معاہدہ برقرار رہے۔