الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ غَزْوِ مَكَّةَ بَعْدَ عَامِ الْفَتْحِ رَخُطْبَتِهِ ﷺ فِي ذَلِكَ باب: فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ} وَقَالَ مَرَّةً {الْمُغَلَّظَةُ فِيهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةٌ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ وَدَعْوَى} وَقَالَ مَرَّةً {وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ فَإِنِّي أُمْضِيهِمَا لِأَهْلِهِمَا عَلَى مَا كَانَتْ}سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز کعبہ کی سیڑھی پر موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے کفار کے تمام لشکروں کو شکست سے دو چار کیا، خبر دار قتل خطا یعنی جو کوڑے یا لاٹھی سے ہو،ا اس کی دیت ایک سو اونٹ ہیں،ایک دفعہ یوں فرمایا کہ اس کا خوں بہا سخت ہے، اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، جاہلیت کے تمام غرور، خون کے مطالبے اور دعوے اور اموال یہ سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں، البتہ حجاج کرام کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی نگرانی کی ذمہ داری حسب ِ سابق بحال رہیں گی۔