الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَحْرِيمِ غَزْوِ مَكَّةَ بَعْدَ عَامِ الْفَتْحِ رَخُطْبَتِهِ ﷺ فِي ذَلِكَ باب: فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان
حدیث نمبر: 10884
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بَرْصَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ ”لَا يُغْزَى هَذَا يَعْنِي بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن فرمایا: (آج کے بعد قیامت تک) اس مکہ پر چڑھائی نہیں کی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا معنییہ ہے کہ کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مکہ پر چڑھائی کرے، کیونکہیہ حرم ہے، یزید کے زمانے میں اور بعد میں حرم کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ظلم تھا۔