حدیث نمبر: 10882
عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَخِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ مُطِيعٍ وَكَانَ اسْمُهُ الْعَاصَ فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ بِمَكَّةَ يَقُولُ «لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا وَلَا يُقْتَلُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بَعْدَ الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا» زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرَ مُطِيعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عامر شعبی سے مروی ہے کہ وہ بنو عدی بن کعب کے ایک فرد عبداللہ بن مطیع بن اسود سے اور وہ اپنے والد سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ کا سابقہ نام عاص تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں جب ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد کبھی بھی مکہ پر چڑھائی نہیں کی جائے گی اور اس سال کے بعد کبھی کوئی قریشی اس طرح ( یعنی کفر اور ارتداد کی وجہ سے ) قتل نہ ہو گا۔ ایک روایت میں ہے: اور اسلام نے قریش کے عاص نامی لوگوں میں سے کسی کو نہیں پایا، ما سوائے سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ کے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درج ذیل افراد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عبدا للہ بن سعد، عبد اللہ بن خطل اور اس کی دو مغنّیہ خواتین قُریبہ اور فرتنی، حویرث بن نقیذ بن وہب،مقیس بن صبابہ، سارہ، عکرمہ بن ابی جہل
عبد اللہ بن خطل کا تعلق بنو تیم بن غالب سے تھا، اس کا نام عبد العزی تھا، ممکن ہے کہ جب یہ مسلمان ہوا ہو تو اس کا نام عبد اللہ رکھ دیا گیا ہو، جب یہ مسلمان ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوزکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور اس کے ساتھ ایک انصاری کو بھی بھیجا، لیکن اس کو انصاری پر غصہ آ گیا اور پھر اس کو قتل کر کے مرتد ہو گیا، اس کی دو مغنّیہ تھیں، فرتنی اور قریبہ،یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ہجو کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن خطل اور اس کی دونوں کنیزوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، جب صحابہ اس تک پہنچے تو یہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی اور سیدنا سعید بن حریث مخزومی نے اس کو قتل کیا اور اس کی کنیزاؤں میں سے صرف قُریبہ قتل ہو سکی۔
ان میں سے عبد اللہ بن سعد، فرتنی اور عکرمہ بن ابی جہل مسلمان ہو گئے تھے اور سارہ کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے امان لے لی گئی تھی، باقی افراد کو قتل کر دیا گیا۔
کوئی قریشی اس طرح قتل نہیں ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تمام قریشی مسلمان ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہو گا، اس کا یہ معنی نہیں کہ کسی قریشی کو ظلماً قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ایسا تو قریش کے ساتھ ہوتا رہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10882
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في المعجم الكبير : 20/ 691، والطحاوي في شرح مشكل الآثار : 1508 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15484»