الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ خَطَلٍ وَلَوْ مُتَعَلَّقًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ وَآخَرِينَ مَعَهُ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عبدالعزی بن خطل کے قتل کا حکم دینا، خواہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو اور دیگر چند اشخاص کو قتل کرنے کا حکم دینا
حدیث نمبر: 10880
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔