الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ الْتِزَامِ الْكَعْبَةِ وَالتَّبَرُّكِ بِهَا وَمَا يَقُولُ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ يَدْخُلُهَا باب: کعبہ کے ساتھ چمٹنے اور اس سے برکت حاصل کرنے کا بیان اور اس امر کا بیان کہ کعبہ کے اندر داخل ہونے والا آدمی کیا کچھ پڑھے اور کرے؟
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قُلْتُ لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي وَكَانَ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ فَلَأَنْظُرَنَّ مَا يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْكَعْبَةِ وَأَصْحَابُهُ قَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَطَهُمْ فَقُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِسیدنا عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ کو فتح کیا تو میں نے کہا کہ میں لباس پہن لوں، میرا گھر راستہ ہی میں تھا، اور میں جا کر دیکھوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج کیا کچھ کرتے ہیں؟ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ سے باہر آچکے تھے اور صحابہ کرام باب کعبہ سے حطیم تک کعبہ کے ساتھ لپٹے اور چمٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ کے ساتھ لگا رکھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی انہی کے درمیان تھے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کام سر انجام دیا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی۔