الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فِيْ بَيْتِ اللهِ باب: ان لوگوں کا بیان جو اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی تھی
حدیث نمبر: 10876
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز ادا کی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیت اللہ میں نماز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اس سلسلے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض راوی سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے اثبات روایت کرتے ہیں اور بعض ان سے اس کی نفی روایت کرتے ہیں۔
ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز بھی پڑھی اور ذکر اذکار بھی کیا۔
امام نووی نے کہا: محدثین کرام کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو معتبر اور قابل عمل سمجھا جائے گا، کیونکہ وہ مثبت ہے اور مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ مثبت کی بنیاد زائد علم پر ہوتی ہے۔ مزید دیکھیں: حدیث نمبر (۴۵۹۳)
ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز بھی پڑھی اور ذکر اذکار بھی کیا۔
امام نووی نے کہا: محدثین کرام کا اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو معتبر اور قابل عمل سمجھا جائے گا، کیونکہ وہ مثبت ہے اور مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے، کیونکہ مثبت کی بنیاد زائد علم پر ہوتی ہے۔ مزید دیکھیں: حدیث نمبر (۴۵۹۳)