حدیث نمبر: 10873
حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ حَجَّ فَأَرْسَلَ إِلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ أَنِ افْتَحْ بَابَ الْكَعْبَةِ فَقَالَ عَلَيَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ هَلْ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ فَقَالَ نَعَمْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ فَتَأَخَّرَ خُرُوجُهُ فَوَجَدْتُ شَيْئًا فَذَهَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ سَرِيعًا فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا فَسَأَلْتُ بِلَالَ بْنَ رَبَاحٍ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ قَالَ نَعَمْ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَقَامَ مُعَاوِيَةُ فَصَلَّى بَيْنَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لائے اور انہوں نے شیبہ بن عثمان کو پیغام بھیجا کہ وہ کعبہ کا دروازہ کھولے۔ پھر انھوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کیایہبات آپ کے علم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے اندر داخل ہوئے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر آنے میں کافی دیر کر دی تو میں نے کوئی چیز محسوس کی، پس میں گیا پھر میں جلدی واپس آیا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لا چکے تھے، میں نے سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز ادا کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعتیں ادا کی ہیں۔پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اُٹھے اور دونوں ستونوں کے درمیان نماز ادا کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10873
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 468، 504، 2988، 4400، ومسلم: 1329 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23885 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24382»