حدیث نمبر: 10871
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُ بِلَالًا مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ قَالَ إِسْحَاقُ وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔(دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر کیا کچھ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سامنے والے تین ستونوں میں سے دو ستون اپنی داہنی جانب، ایک ستون بائیں جانب اور پچھلے تینوں ستون پیچھے چھوڑ کر اس طرح کھڑے ہو کر نماز ادا کی آپ کے اور قبلہ کی دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ جتنا فاصلہ تھا۔ اسحاق راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں بیت اللہ کی عمارت چھ ستونوں پر قائم تھی، اس راوی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیانی فاصلہ کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10871
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5927»