الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَنْ رَوى أَنَّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُصَلُّ دَاخِلَ الْكَعْبَةِ باب مَنْ رَوَى أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى فِيهَا باب: ان صحابہ کا بیان جنھوں نے یہ روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا نہیں کی
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِالدُّخُولِ قَالَ لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُابن جریج سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عطاء سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ تمہیں بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے، اس کے اندر جانے کا حکم تمہیں نہیں دیا گیا؟ عطاء نے جواب دیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیت اللہ میں داخل ہونے سے کسی کو نہیں روکتے تھے، البتہ میں نے ان کو یوں کہتے ہوئے سنا ہے کہ ان کو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تمام کونوں میں دعائیں کیں اور اس کے اندر نماز ادا نہیں کی،یہاں تک کہ باہر تشریف لے آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہر آکر کعبہ کے عین سامنے دو رکعتیں ادا کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قبلہ ہے۔