الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَبِهِ ﷺ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ مِنْ عُثْمَانَ بن طَلْحَةَ لِيَدْخُلَهَا وَ مَا فَعَلَهُ بِالْأَصْنَامِ الَّتِي وَضَعَهَا الْمُشْرِكُونَ فِيْهَا وَتَطْهِيرِهَا مِنْ ذَلِكَ باب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ سِتُّونَ وَثَلَاثُمِائَةِ نُصُبٍ فَجَعَلَ يَطْعَنُهَا بِعُودٍ كَانَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ [السَّبَأ: 49] جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا [الإِسْرَاء: 81]عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان بتوں کو وہ لکڑی مارتے جاتے اور یہ آیات تلاوت کرتے جاتے: {جَائَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِیئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ} … کہہ دیجئے کہ حق آچکا اورباطل نہ پہلے کچھ کر سکا ہے اور نہ کرسکے گا۔ (سورۂ سبا: ۴۹) {جَائَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا} … حق آگیا اور باطل دم دبا کر بھاگ گیا، بے شک باطل ہے ہی بھاگ جانے والا۔ (سورۂ بنی اسرائیل:۸۱)