حدیث نمبر: 10860
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اقْتَسَمَا بِهَا قَطُّ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتوں کی موجودگی کی وجہ سے بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو باہر نکال دینے کا حکم دیا، چنانچہ ان کو باہر نکال دیا گیا، ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی مورتیوں کے ہاتھوں میں قسمت آزمائی والے تیر پکڑائے گئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان لوگوں کو تباہ کرے، اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ ان دونوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں نکالی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے، اس کے سارے کونوں میں تکبیرات کہیںاور پھر باہر تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی تھییا نہیں؟ اگلے دو ابواب ملاحظہ ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10860
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4288 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3093»