الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَبِهِ ﷺ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ مِنْ عُثْمَانَ بن طَلْحَةَ لِيَدْخُلَهَا وَ مَا فَعَلَهُ بِالْأَصْنَامِ الَّتِي وَضَعَهَا الْمُشْرِكُونَ فِيْهَا وَتَطْهِيرِهَا مِنْ ذَلِكَ باب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اقْتَسَمَا بِهَا قَطُّ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتوں کی موجودگی کی وجہ سے بیت اللہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو باہر نکال دینے کا حکم دیا، چنانچہ ان کو باہر نکال دیا گیا، ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی مورتیوں کے ہاتھوں میں قسمت آزمائی والے تیر پکڑائے گئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان لوگوں کو تباہ کرے، اللہ کی قسم ہے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ ان دونوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں نکالی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے، اس کے سارے کونوں میں تکبیرات کہیںاور پھر باہر تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی تھی۔