الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَبِهِ ﷺ مِفْتَاحَ الْكَعْبَةِ مِنْ عُثْمَانَ بن طَلْحَةَ لِيَدْخُلَهَا وَ مَا فَعَلَهُ بِالْأَصْنَامِ الَّتِي وَضَعَهَا الْمُشْرِكُونَ فِيْهَا وَتَطْهِيرِهَا مِنْ ذَلِكَ باب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ فَجَاءَ بِهِ فَفَتَحَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحُوهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَوَجَدْتُ بِلَالًا عَلَى الْبَابِ قَائِمًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّىسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر سوار تھے، آپ اسی طرح مکہ میں داخل ہوئے اور آکر کعبہ کے قریب اونٹنی کو بٹھا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو بلوایا کہ کعبہ کی چابی لے کر آؤ، وہ چابی لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کا دروازہ کھولا اور کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کعبہ میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے کافی دیر تک کعبہ کا دروازہ بند کئے رکھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قوی نوجوان تھا، میں نے کوشش کی اور لوگوں سے آگے نکل گیا۔ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر کھڑے پا کر ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس مقام پر نماز ادا فرمائی ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ آگے والے دو ستونوں کے درمیان، مجھے یہ پوچھنا یاد نہ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی ہیں۔