الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دُخُولِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مَكَّةَ حَتَّى تَمَّ لَهُمُ الْفَتْحُ وَمُعَامَلَتِهِ أَهْلَ مَكَّةَ بِالرَّافَةِ وَالْعَفْوِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
حدیث نمبر: 10857
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے چاہا تو کل جب اللہ تعالیٰ ہمیں فتح سے نوازے گا تو ہمارا قیام خیف وادی میں ہو گا، جہاں کفار قریش نے (ہمارے خلاف) کفر کی مدد کی قسمیں اُٹھائی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۴۵۷۱) والا باب اور اس کے فوائد۔