الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ دُخُولِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ مَكَّةَ حَتَّى تَمَّ لَهُمُ الْفَتْحُ وَمُعَامَلَتِهِ أَهْلَ مَكَّةَ بِالرَّافَةِ وَالْعَفْوِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
حدیث نمبر: 10856
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس وقت آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک آدمی نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ ابن خطل کافر کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ امام مالک کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس روز احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ واللہ اعلم۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس آدمی کا ارادہ حج یا عمرے کا نہ ہو، وہ احرام کے بغیر مکہ میں داخل ہو سکتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس نے بار بار آنا ہو یا کبھی کبھار۔
حدیث نمبر (۱۰۸۸۰) میں ابن خطل کے قتل پر بحث ہو گی۔
حدیث نمبر (۱۰۸۸۰) میں ابن خطل کے قتل پر بحث ہو گی۔