الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة— سنہ (۸) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَارِيخِ غَزْوَةِ الْفَتْحِ وَقِصَّةِ كِتَابِ خاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ باب: غزوۂ فتح مکہ کی تاریخ اور اہلِ مکہ کے نام حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے مکتوب کا واقعہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ (وَفِي لَفْظٍ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ) فَصَامَ حَتَّى مَرَّ بِغَدِيرٍ فِي الطَّرِيقِ وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ فَعَطِشَ النَّاسُ وَجَعَلُوا يَمُدُّونَ أَعْنَاقَهُمْ وَتَتُوقُ أَنْفُسُهُمْ إِلَيْهِ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَمْسَكَهُ عَلَى يَدِهِ حَتَّى رَآهُ النَّاسُ ثُمَّ شَرِبَ فَشَرِبَ النَّاسُسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کے دس دن گزر چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا،عین دوپہر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کے ایک تالاب کے پاس سے گزرے، چونکہ لوگ پیاسے تھے، اس لیے وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھ رہے تھے اور ان کے نفس پانی کو چاہ رہے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوا کر اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پی لیا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا (اور اس طرح روزہ توڑ دیا)۔