حدیث نمبر: 10847
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي} فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَهُ فَقَالَ {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً} قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظر میری طرف اُٹھا کر جھکالی اور پھر فرمایا: میں تمہیں ایک لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجنا چاہتا ہوں۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے گا اور تمہیں غنیمت سے نوازے گا۔ اور میں تمہارے حق میں مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میں مال ودولت حاصل کرنے کے لیے تو مسلمان نہیں ہوا۔ میں تو محض اسلام کی رغبت کی وجہ سے مسلمان ہوا ہوں۔ اور میری خواہش ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا مال ، نیک آدمی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … نیک آدمی کو مال و دولت کے حقوق کا علم ہوتا ہے، اس لیے وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
یہ ذات السلاسل والا ہی لشکر تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب فرمایا، کیونکہ وہ جنگی مہارتوں اور فنون سے متصف تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثامنة للهجرة / حدیث: 10847
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 2/ 236، والطبراني في الاوسط : 3213 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17915»