حدیث نمبر: 108
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ذریعے اس دین کی مدد کرے گا، جن کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔“

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچانے کے لیے مختلف لوگوں کو استعمال کیا، ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہوئے، جو خود اس دین سے استفادہ نہ کر سکے، مثال کے طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے اور شرعی احکام کو ثابت کرنے والے وہ علما، جو خود اپنے علم پر عمل نہ کر سکے، یا جن کا مقصد ریاکاری، نمودو نمائش اور صدارت و سربراہی تھا۔
اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کافر اور بے دین لوگ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں اسلام، قرآن اور صاحب قرآن پر اعتراضات کرتے ہیں۔ جس سے بہت سے کافروں کے ذہن میں اسلام اور قرآن کے بارے تجسس پیدا ہوتا ہے اور وہ تحقیق کر کے مشرف باسلام ہو جاتے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 108
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه ابن عدي في الكامل : 2/ 573 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20728»