حدیث نمبر: 10799
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَكَانَ أَحَدَ الرَّهْطِ الَّذِينَ نَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [التوبة: 92] قَالَ إِنِّي لَآخِذٌ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِ الشَّجَرَةِ أُظِلُّ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُبَايِعُونَهُ فَقَالُوا نُبَايِعُكَ عَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَا تَفِرُّوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ ، یہ صحابی ان لوگوں میں سے ہیں جن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: {وَلَا عَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا أَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ} … اور نہ ان لوگوں پر کہ جب وہ آپ کے پاس آئے، تاکہ آپ ان کو سوار کریں۔ (سورۂ توبہ: ۹۲)، یہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ ( حدیبیہ کے دن) صحابہ کرام ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر رہے تھے اور میں درخت کی ایک شاخ پکڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کئے ہوئے تھا، صحابہ نے کہا: ہم موت پر آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس بات کی بیعت کرو کہ میدان سے فرار اختیار نہیں کرو گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السادسة للهجرة / حدیث: 10799
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو جعفر الرازي سييء الحفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20820»