حدیث نمبر: 10797
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ الْعَبَّاسُ آخِذًا بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوَاثِقُنَا فَلَمَّا فَرَغْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ قَالَ فَسَأَلْتُ جَابِرًا يَوْمَئِذٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعَلَى الْمَوْتِ قَالَ لَا وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ قُلْتُ لَهُ أَفَرَأَيْتَ يَوْمَ الشَّجَرَةِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى بَايَعْنَاهُ قُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا أَرْبَعَ عَشَرَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ كُلُّنَا إِلَّا الْجَدَّ بْنَ قَيْسٍ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرٍ وَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ مِنَ الْبُدْنِ لِكُلِّ سَبْعَةٍ جَزُورٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے بیعت لے رہے تھے، جب ہم بیعت سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں سے بیعت لے چکا اور اللہ کا دین اور اس کے وعدے تمہیں دے چکا۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس قسم کی بیعت کی تھی؟ کیا موت کی بیعت تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم نے آپ سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔ میں نے کہا: درخت والے دن کے متعلق بھی بتلائیں،انہوں نے کہا:اس د ن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، میں نے دریافت کیا: اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: ہم چودہ سو تھے، جد بن قیس کے سوا باقی سب لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، وہ اونٹ کے پیٹ کے پیچھے چھپ گیا تھا، اس دن ہم نے ستر اونٹ نحر کئے تھے، ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السادسة للهجرة / حدیث: 10797
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه مختصرا مسلم: 1856 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15332»