حدیث نمبر: 10796
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، کیکریا ببول کے درخت کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم میدان سے فرار نہ ہوں گے، ہم نے موت پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت نہیں کی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام نے موت پر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، جیسا کہ آگے روایات آ رہی ہیں، اسی طرح بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت، اسلام اور جہاد پر بھی بیعت کی گئی اور ایک حدیث میں ہے کہ صحابۂ کرام نے خلیفہ کی بات سننے، اس کی اطاعت کرنے اور حکومت و امارت کے اہل لوگوں سے حکومت نہ چھیننے پر بیع کی، ایک روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام نے صبر پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی۔
ان تمام روایات میں معنی و مفہوم کے اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے، سب روایات کا مدّعا یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حقیقت پر بیعت کر رہے ہیں کہ وہ صبر کریں گے اور دشمن سے مرعوب ہو کر بھاگیں گے نہیں، بلکہ دشمن کے مقابلے میںڈٹے رہیں گے، یہاں تک کہ یا تو شہیدہو جائیں گے اور یہ پھر کامیاب ہو کر لوٹیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السادسة للهجرة / حدیث: 10796
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1856 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14883»