حدیث نمبر: 10794
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قُرَيْشًا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَلَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنْ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنْ اكْتُبْ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ جَاءَ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَكْتُبُ هَذَا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، ان کے وفد میں سہیل بن عمرو بھی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِلکھو ۔ سہیل نے کہا: ہم تو نہیں جانتے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِکیا ہے؟ آپ وہی کلمہ لکھیں جسے ہم جانتے ہیں، بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ لکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو یہ معاہدہ محمد رسول اللہ کی طرف سے ہے۔ ! اس جگہ یہ بات ہے جبکہ عام روایات میں یہ ہے کہ مکہ والوں میں اگر کوئی مسلمان ہو جائے تو وہ آپ کے ساتھ نہیں جا سکے گا۔
اس پر پھر سہیل بولا کہ اگر ہم یہ مانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی اقتدا کر لیتے، آپ اس طرح کریں کہ اپنا اور اپنے والد کا نام لکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو یہ معاہدہ محمد بن عبداللہ کی طرف سے ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ شرط طے کی کہ اگر آپ لوگوں میں سے کوئی (ہمارے پاس) آیا تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے، لیکن ہمارا جو آدمی آپ کے پاس آیا، آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے۔ یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم یہ شرط بھی لکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! جو آدمی ہمیں چھوڑ کر ان کی طرف جائے، اللہ تعالیٰ اسے ہم سے دور ہی رکھے۔

وضاحت:
فوائد: … بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِکے بجائیبِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ اور محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھنا، وغیرہ وغیرہ، ان سب کو تسلیم کرنے میں مصلحت تھی، جبکہ شریعت کی کسی شق کی مخالفت بھی نہیں ہو رہی تھی اور واقعی حدیبیہ کی صلح بلحاظ انجام مسلمانوں کے حق میں کھلم کھلا فتح کا پیغام تھا۔
حدیبیہ کے مقام پر طرفین کے درمیان طویل گفتگو کے بعد درج ذیل شرطیں طے پائیں: ۱۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سال مکہ میں داخل ہوئے بغیر اپنے صحابہ سمیت واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال عمرہ کے لیے مکہ آئیں گے، صرف تین دن قیام کریں گے، ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہو گا، صرف میان کے اندر تلواریں ہوں گی۔
۲۔ فریقین میں دس سال کے لیے جنگ بندی رہے گی۔
۳۔ جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں داخل ہونا چاہے، داخل ہو سکتا ہے اور جو قریش کے عہد میں داخل ہونا چاہے، وہ بھی داخل ہو سکتا ہے۔
۴۔ قریش کا جو آدمی مسلمانوں کی پناہ میں چلا جائے گا، مسلمان اسے قریش کے حوالے کر دیں گے، لیکن مسلمانوں کا جو آدمی قریش کی پناہ میں آئے گا، قریش اسے واپس نہیں کریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السادسة للهجرة / حدیث: 10794
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13827 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13863»