حدیث نمبر: 10791
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ إِنَّا جِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ عَبِيدِنَا قَدْ أَتَوْكَ لَيْسَ بِهِمْ رَغْبَةٌ فِي الدِّينِ وَلَا رَغْبَةٌ فِي الْفِقْهِ إِنَّمَا فَرُّوا مِنْ ضِيَاعِنَا وَأَمْوَالِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَقُولُ قَالَ صَدَقُوا إِنَّهُمْ جِيرَانُكَ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا تَقُولُ قَالَ صَدَقُوا إِنَّهُمْ لَجِيرَانُكَ وَحُلَفَاؤُكَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے کہا: اے محمد! ہم آپ کے ہمسائے اور حلیف ہیں، ہمارے کچھ غلام جنہیں نہ تو دین کا کچھ شوق ہے اور فقہ کی کچھ رغبت، وہ آپ کے پاس آگئے ہیں،یہ لوگ محض ہمارے اہل اور اموال میں سے فرار ہو کر آئے ہیں، آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ان کی بات تو درست ہے، یہ واقعی آپ کے ہمسائے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے بھی کہا: ان کی بات تو درست ہے، یہ لوگ آپ کے ہمسائے اور حلیف بھی ہیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السادسة للهجرة / حدیث: 10791
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، شريك النخعي سييء الحفظ، أخرجه بنحوه مطولا الترمذي: 3715، وأخرجه بنحوه ابوداود: 2700 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1336»