حدیث نمبر: 10788
عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

صالح بن خوات ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جس نے ذات الرقاع والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی تھی، اس نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنالی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر کھڑے رہے کہ ان لوگوں نے خود دوسری رکعت ادا کر لی اور پھر چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، دوسرا گروہ آیا اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ماندہ رکعت پڑھی، پھر آپ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ یہ لوگ دوسری رکعت ادا کرکے (تشہد میں بیٹھ گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں:نماز خوف کییہ صورت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے مدینہ منورہ واپس آ چکے تو سنا کہ بنو انمار، ثعلبہ اور محارب کے بدو اکٹھا ہو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینے کا انتظام سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو سونپا اور سات سو صحابہ کی معیت میں مدینہ سے دو دن کے فاصلے پر واقع مقام نخل کا رخ کیا، وہاں بنو غطفان کی ایک جمعیت سے آمنا سامنا ہوا، دونوں فریق ایک دوسرے کے قریب آئے اور بعض نے بعض کو خوفزدہ کیا، لیکن جنگ نہیں ہوئی،یہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف بھی ادا کی، پھر اللہ تعالیٰ نے دشمن کے دل میں رعب ڈال دیا اور اس کی جمعیتپراگندہ ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ واپس آ گئے، یہ جمادی الاولی۷ ہجری کا واقعہ ہے۔
یہ غزوہ کب پیش آیا؟ اس کے بارے میں اختلاف ہے، ۴ سن ہجری اور ۵ سن ہجری کے بھی اقوال ہیں، البتہ امام بخاری کا میلان اس طرف ہے کہ یہ خیبر کے بعد واقع ہوا۔
اس غزوے کو غزوۂ ذات الرقاع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے قدم پیدل چلنے کی وجہ سے زخمی ہو گئے تھے اور انھوں نے ان پر چیتھڑے لپیٹ لیے تھے اور چیتھڑوں کو عربی میں رقاع کہتے ہیں۔ مزید دو اقوال بھی ہیں، ایکیہ کہ اس غزوے کی جگہ کا نام ہی رقاع تھا اور دوسرا کہ اس کی زمین اور پہاڑ مختلف رنگ کے تھے، گویا کہ وہ رقاع پیوند تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السادسة للهجرة / حدیث: 10788
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4129، ومسلم: 842 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23524»