الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السادسة للهجرة— سنہ (۶) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي غَزْوَةِ بَنِي لِحْيَانِ الَّتِي صَلَّى فِيهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلَاةَ الْخَوْفِ بِعُسْفَانَ باب: عُسفان کے مقام پر بپا ہونے والے غزوۂ بنی لحیان کا بیان، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف ادا کی تھی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ وَتَقُومَ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّوا مَعَهُ وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔