الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ مُشْتَرِكًا فِي غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَبَنِي قُرَيْظَةَ وَجُرْح سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ رضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
حدیث نمبر: 10774
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ لَحَدَّثَنِي قَالَ اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَابْنُ الزُّبَيْرِ حَوَارِيِّيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے دن معاملہ سنگین ہو گیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: کوئی ایسا آدمی ہے، جو بنو قریظہ کی خبر لے کر آئے؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ گئے اور ان کی خبریں لے کر آئے، پھر جب معاملہ سنگین ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر اسی طرح فرمایا، چنانچہ تین مرتبہ ایسے ہی ہوا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک خاص آدمی ہوتا ہے اور زبیر میرا خاص آدمی ہے۔