الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ مُشْتَرِكًا فِي غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَبَنِي قُرَيْظَةَ وَجُرْح سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ رضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُطُمِ حَسَّانَ فَكَانَ يَرْفَعُنِي وَأَرْفَعُهُ فَإِذَا رَفَعَنِي عَرَفْتُ أَبِي حِينَ يَمُرُّ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ وَكَانَ يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيُقَاتِلَهُمْ فَقُلْتُ لَهُ حِينَ رَجَعَ يَا أَبَتِ تَاَللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُكَ حِينَ تَمُرُّ ذَاهِبًا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَالَ يَا بُنَيَّ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفَدِّينِي بِهِمَا يَقُولُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّيسیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ خندق کے موقع پر میں اور سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ حسان کے قلعوں میں سے اس قلعہ میں تھے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات تھیں، وہ مجھے اور میں انہیں اوپر اُٹھاتا اور ہم باہر کے مناظر دیکھتے، جب اس نے مجھے اٹھایا تو میں نے اپنے والد کو پہچان لیا، وہ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے اور وہ خندق والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو بنی قریظہ کی طرف جا کر ان سے قتال کرے؟ جب وہ واپس آئے تو میں نے عرض کیا: ابا جان اللہ کی قسم! جب آپ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے تو میں آپ کو پہچان چکا تھا۔ انھوں نے کہا: بیٹا! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے داد اور دعا دیتے ہوئے یوں فرما رہے تھے کہ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہو ں۔