الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ مُشْتَرِكًا فِي غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَبَنِي قُرَيْظَةَ وَجُرْح سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ رضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: غزوۂ خندق اور غزوۂ بنی قریظہ کے بعض مشترکہ واقعات اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کا واقعہ
عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَحَسَمَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ فَنَزَفَهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ فَحَكَمَ أَنْ تُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ لِيَسْتَعِينَ بِهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ قَتْلِهِمْ انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُسیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:غزوۂ احزاب کے موقع پر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ایک تیر لگا اور دشمن نے ان کے بازو کی اکحل رگ کاٹ ڈالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خون روکنے کے لیے اسے آگ سے داغ دیا، لیکن اس سے ان کا بازو پھول گیا، اسے دوبارہ داغا تو وہ دوبارہ پھول گیا۔ اسے تیسری دفعہ داغا تو تب بھی وہ پھول گیا اور اس سے بہت زیادہ خون بہنے لگا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ کیفیت دیکھی تو دعا کی: یا اللہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے، جب تک کہ بنو قریظہ کے بارے میں میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں، چنانچہ ان کی رگ کا خون بہنا بند ہو گیا اور اس سے اس وقت تک کوئی قطرۂ خون نہ نکلا، جب تک کہ وہ لوگ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلوایا تو انہوں نے فیصلہ دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ان کے ذریعے مسلمان مدد حاصل کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے بارے میں تم نے اللہ کی پسند کا فیصلہ کیا ہے۔ بنو قریظہ کی تعداد چار سو تھی، جب ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد رضی اللہ عنہ کی رگ پھوٹ پڑی اور اس کے نتیجہ میں ان کی موت واقع ہوئی۔