الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ فِيمَا أَبْدَاهُ المُجَاهِدُونَ مِنَ الشَّجَاعَةِ وَالاسْتِبْسَالِ فِي الْقِتَالِ باب: غزوۂ احزاب میں مجاہدین کی شجاعت اور اظہارِ قوت کا بیان بلکہ موت کے لیے تیار ہو کر ان کا لڑنا
حدیث نمبر: 10768
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى إِلَى مَسْجِدٍ يَعْنِي الْأَحْزَابَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَقَامَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَدْعُو عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ ثُمَّ جَاءَ وَدَعَا عَلَيْهِمْ وَصَلَّىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ احزاب کے دن مسجد کی طرف آئے، اپنی چادر رکھ دی اور کھڑے ہو کر کفار پر بددعا کے لیے ہاتھ پھیلادئیے اور نماز ادا نہ کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ آئے اور ان پر بددعا کی اور نماز پڑھائی۔