الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ فِيمَا أَبْدَاهُ المُجَاهِدُونَ مِنَ الشَّجَاعَةِ وَالاسْتِبْسَالِ فِي الْقِتَالِ باب: غزوۂ احزاب میں مجاہدین کی شجاعت اور اظہارِ قوت کا بیان بلکہ موت کے لیے تیار ہو کر ان کا لڑنا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَوَاتِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ هَوِيًّا وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُهُ {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا} [الأحزاب: 25] أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّاهَا كَمَا يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَاسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے دن ہمیں نماز سے روک دیا گیا،یہاں تک کہ مغرب کے بعد کا وقت ہو گیا، دوسری روایت میں ہے:یہاں تک کہ رات کا بھی کچھ حصہ بیت گیا،یہ اس وقت کی بات ہے جب قتال کے متعلق مفصل احکامات نازل نہیں ہوئے تھے، جب لڑائی میں اللہ کی طرف سے ہماری مدد کی گئی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَکَفیٰ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللّٰہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا۔} … لڑائی میںمومنین کے لیے اللہ کافی رہا اور اللہ بہت ہی قوت والا سب پر غالب ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح نماز پڑھائی، جس طرح اس کے اصل وقت میں پڑھاتے تھے۔ پھر انھوں نے عصر کے لیے اقامت کہی تو آپ نے اسی طرح نماز پڑھائی جیسے وقت پر پڑھاتے تھے۔ پھر انھوں نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی جس طرح اس کے وقت میں پڑھاتے تھے۔
اس رخصت کے منسوخ ہونے کی کوئی دلیل نظر نہیں گزری۔ خوف کی وجہ سے نماز با جماعت اور وقت پر پڑھنی ممکن ہو تو ٹھیک ہے اوراصل یہی ہے، ورنہ اگر شدت خوف کی وجہ سے ایک سے زائد نمازیں جمع ہو جائیں تو زیر مطالعہ حدیث کی روشنی میں اس کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے۔ (عبداللہ رفیق)