الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ فِيمَا أَبْدَاهُ المُجَاهِدُونَ مِنَ الشَّجَاعَةِ وَالاسْتِبْسَالِ فِي الْقِتَالِ باب: غزوۂ احزاب میں مجاہدین کی شجاعت اور اظہارِ قوت کا بیان بلکہ موت کے لیے تیار ہو کر ان کا لڑنا
حدیث نمبر: 10765
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ되는آلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ الْيَوْمَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا: آج کے بعد ہم ان پر چڑھائی کریں گے، وہ اب ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ایسے ہی ہوا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، غزوۂ خندق کے بعد نہ تو مشرکینِ مکہ، مدینہ منورہ کا رخ کر سکے اور نہ کسی میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر کا سامنا کر سکے۔ ۵ سن ہجری میں غزوۂ خندق پیش آیا تھا، ۶ سن ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے، لیکن عمرہ کی ادائیگی نہ ہو سکی اور حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ سے صلح کا واقعہ پیش آیا، جو مسلمانوں کے حق میں فتح مبین کا پیغام تھا، پھر مشرک یہ معاہدہ برقرار نہ رکھ سکے اور ۸ھمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کر کے مشرکین مکہ کا سلسلہ ہی ختم کر دیا۔