الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ فِيمَا أَبْدَاهُ المُجَاهِدُونَ مِنَ الشَّجَاعَةِ وَالاسْتِبْسَالِ فِي الْقِتَالِ باب: غزوۂ احزاب میں مجاہدین کی شجاعت اور اظہارِ قوت کا بیان بلکہ موت کے لیے تیار ہو کر ان کا لڑنا
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَرَجُلٌ يَتَتَرَّسُ جَعَلَ يَقُولُ بِالتُّرْسِ هَكَذَا فَوَضَعَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا يُسَفِّلُهُ بَعْدُ قَالَ فَأَهْوَيْتُ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا سَهْمًا مُدَمًّا فَوَضَعْتُهُ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ فَلَمَّا قَالَ هَكَذَا يُسَفِّلُ التُّرْسَ رَمَيْتُ فَمَا نَسِيتُ وَقْعَ الْقِدْحِ عَلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ التُّرْسِ قَالَ وَسَقَطَ فَقَالَ بِرِجْلِهِ فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُهُ قَالَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ قُلْتُ لِمَ قَالَ لِفِعْلِ الرَّجُلِسیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس روز خندق کی لڑائی کا موقع تھا اور کفار کے لوگ اپنی اپنی ڈھال کی اوٹ میں چھپ رہے تھے، ساتھ ہی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال کو اپنی ناک کے سامنے کر کے دکھایا کہ آدمی اپنی ڈھال کو یوں اپنے سامنے کرتا اور پھر کبھی اسے یوں نیچے کو کرتا تھا تاکہ مخالفین کی طرف دیکھ لے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ترکش کا قصد کر کے اس سے خون آلود تیرنکالا اور اسے کمان کی قوس پر رکھا، جب اس کا فر نے ڈھال کو ذرا نیچے کی طرف کیا تو میں نے فوراً تیر چلا دیا، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تیر اس ڈھال کے فلاںفلاں حصے پر جا کر لگا اور وہ نیچے گر گیا اور اُس کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں،یہ منظر دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر زور سے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں، میں نے دریافت کیا: آپ کے ہنسنے کا سبب کیا تھا؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی کی حالت دیکھ کر۔