الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِحْنَةِ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَ بِحَدِيثِ الْإِنكِ فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ باب: غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ وَقَدِ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ قَالَ فَرَأَى عَمَّارًا فَقَالَ وَيْحَهُ ابْنُ سُمَيَّةَ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ فَقَالَ عَنْ أُمِّهِ قُلْتُ نَعَمْ أَمَا إِنَّهَا كَانَتْ تُخَالِطُهَا تَلِجُ عَلَيْهَاسیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے خندق والے دن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات نہیں بھولی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو اینٹیں پکڑا رہے تھے اور آپ کے سینہ مبارک کے بال غبار آلود ہو چکے تھے اور آپ یوں فرما رہے تھے: اے اللہ! اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: سمیہ کے بیٹے پر افسوس ہے کہ اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ حسن ابن سیرین کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو محمد بن سیرین کے سامنے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمار رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام لے کر فرمایا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ وہ( سمیہ رضی اللہ عنہا ) سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آتی جاتی رہتی تھیں۔