الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الخامسة للهجرة— سنہ (۵) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مِحْنَةِ عَائِشَةَ رضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَ بِحَدِيثِ الْإِنكِ فِي هَذِهِ الْغَزْوَةِ باب: غزوۂ بنو مصطلق میں واقعۂ افک کی وجہ سے اُمّ المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ابتلاء وآزمائش کا بیان
حدیث نمبر: 10761
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْخَنْدَقِ وَهُمْ يَحْفِرُونَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، صحابہ کرام خندق کھود رہے تھے اور ہم اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا اٹھا کر منتقل کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! نہیں ہے کوئی زندگی، مگرآخرت کی زندگی، پس تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔